16 اکتوبر، 2026، 4:18 PM

ایران کی معیشت تباہ ہونے کے امریکی دعوے غلط ثابت ہوئے، آیت اللہ خاتمی

ایران کی معیشت تباہ ہونے کے امریکی دعوے غلط ثابت ہوئے، آیت اللہ خاتمی

امام جمعہ تہران نے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے دو ہفتوں میں ایرانی معیشت کے تباہ ہونے کی پیش گوئی کے برعکس ایران کی معیشت مزید مضبوط اور مستحکم ہوئی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران کے امام جمعہ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا ہے کہ ایران کی معیشت کے تباہ ہونے سے متعلق امریکی حکام کے دعوے پورے نہیں ہوئے، بلکہ ایرانی معیشت مزید مضبوط، متحرک اور مستحکم ہوئی ہے۔

تہران میں نماز جمعہ کے خطبے کے دوران خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ خاتمی نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دعوی کیا تھا کہ ایران کی معیشت دو ہفتوں کے اندر تباہ ہو جائے گی، لیکن اس کے برعکس ایرانی معیشت نہ صرف برقرار رہی بلکہ اس میں مزید استحکام پیدا ہوا۔

انہوں نے کہا کہ یہ محض ایران کا اپنا مؤقف نہیں ہے، بلکہ عالمی اقتصادی فورم کے سربراہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران صورت حال کو بہترین انداز میں قابو میں رکھا ہے۔ آئندہ سال اقتصادی اعتبار سے ایرانی قوم کے لیے ایک روشن سال ثابت ہوگا۔

آیت اللہ خاتمی نے زور دے کر کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ میں اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

تہران کے امام جمعہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی صورت حال کو غیر مستحکم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ ان دنوں اپنی جماعت کے لیے انتخابی مہم چلا رہے ہیں، تاہم وہ جہاں بھی اس مقصد کے لیے گئے، انہیں عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک تقریر کے دوران ٹرمپ کو پانچ مرتبہ عوامی مداخلت اور احتجاج کے باعث اپنی گفتگو روکنا پڑی۔

آیت اللہ خاتمی نے اس واقعے کو امریکی صدر کے خلاف عوامی مخالفت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے اندر بھی ٹرمپ کو مخالفت کا سامنا ہے اور ان کی مقبولیت کی شرح کم ہو کر 40 فیصد سے بھی نیچے آگئی ہے۔

آیت اللہ خاتمی نے اپنے خطاب میں ایران کی طاقتور مسلح افواج نے امریکی صدر کو ایسا سبق سکھایا جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی بحری بیڑے کو ایرانی سرزمین سے کئی سو کلومیٹر دور پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا، جو عالمی سطح پر ایران کی غیر معمولی طاقت کا مظہر ہے۔

News ID 1942156

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha